ڈھاکہ،27؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)بنگلہ دیش کی سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت ڈھاکہ کے نواح میں شدت پسندوں کے ٹھکانے پر چھاپہ مار کر چار شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں گذشتہ ماہ دارالحکومت میں ایک کیفے پر حملہ کرنے والی کالعدم تنظیم کا مبینہ منصوبہ ساز تمیم چوہدری بھی شامل ہے۔خیال رہے کہ یکم جولائی کو ہولی آرٹسن بیکری پر شدت پسندوں کے حملے میں غیر ملکیوں سمیت 22افراد ہلاک ہو گئے تھے۔بنگلہ دیشی کمانڈوز نے 12گھنٹے تک کیفے کے محاصرے کرنے کے بعد 13افراد کو بچا لیا تھا جبکہ چھ مسلح حملہ آوروں کو ہلاک اور ایک کو گرفتار کیا گیا تھا۔اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی تاہم بنگلہ دیشی حکومت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مقامی شدت پسند تنظیم جمعیت المجاہدین بنگلہ دیش کا کام ہے۔پولیس کے مطابق ڈھاکہ کے جنوب میں 25کلومیٹر کے فاصلے پر موجود نارائن گنج نامی شہر کے علاقے پیکپارا میں شدت پسندوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا۔پولیس اور شدت پسندوں کے درمیان ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔سنیچر کو ہونے والی اس کارروائی کے بعد پولیس افسر سانور حسین نے بتایا کہ کیفے حملے کے ماسٹر مائنڈ تمیم چوہدری کو مار دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں چار لاشیں دیکھ سکتے ہیں، تمیم چوہدری ہلاک ہو گیا ہے، وہ گلشن حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے اور جمعیت المجاہدین بنگلہ دیش کا سربراہ ہے۔خیال رہے کہ تمیم چوہدری سنہ 2013میں کینیڈا سے بنگلہ دیش لوٹے تھے اور کالعدم تنظیم جے ایم بی کی قیادت کر رہے تھے۔